حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 31 اکتوبر، شہروں کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: اس سال عالمی یومِ شہر کا موضوع ’’شہروں کی تجدید، موزوں رہائش‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد شہری آبادیوں کی مناسب دیکھ بھال، رہائشی سہولتوں کی فراہمی اور شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب عالمی اداروں اور ممالک کی توجہ مبذول کرانا ہے، تاہم دنیا بھر میں جنگوں اور جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہونے والے شہروں کی صورتحال اس عالمی نعرے کے ساتھ ایک واضح تضاد پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا: غزہ سٹی، جو کبھی جدید اور ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا تھا، آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بیروت، جو ترقی کے مختلف مراحل طے کر رہا تھا، بیرونی جارحیت کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر تاریخی اور تہذیبی اہمیت کے حامل شہروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا: شہروں کے عالمی دن کو ایک سماجی دن کے طور پر منانا خوش آئند ہے لیکن ایک طرف دنیا ’’شہروں کی تجدید، موزوں رہائش‘‘ کا نعرہ بلند کر رہی ہے اور دوسری طرف فلسطین، شام، لبنان، عراق، ایران اور افغانستان کے ہنستے بستے تاریخی شہروں اور ان کے جدید بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات کیے گئے جن سے انسانیت شرمسار ہوتی ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایک آباد شہر کو اس کے بنیادی ڈھانچے سمیت تباہ کر دیا گیا، اسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد، گرجا گھروں، ذرائع ابلاغ کے مراکز، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے دفاتر اور امدادی کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی تباہی کے بعد ایک پیچیدہ معاہدہ سامنے آیا، جس پر جشن منایا گیا، لیکن آج بھی غزہ میں بارود کی بو اور ماتم و احتجاج کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے سوال اٹھایا کہ غزہ کی تباہی کے بعد عالمی ضمیر بیروت اور دیگر متاثرہ شہروں کے لیے کب بیدار ہوگا؟ جہاں جنگ کے علاوہ انارکی اور افراتفری پھیلانے کی سازشوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ جنگوں اور جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہونے والے شہروں اور وہاں بسنے والے انسانوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
انہوں نے پاکستان کے بڑے شہروں کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت ملک کے کئی بڑے شہر بھی مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں، اسموگ، امن و امان کی خراب صورتحال اور عوام کے جان و مال کے تحفظ جیسے مسائل نے شہری زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ اسلام آباد کے قدرتی حسن کو بھی بری طرح متاثر کیا گیا ہے جبکہ دارالحکومت کے شہری عدم تحفظ، بے روزگاری، غربت اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہا: آج عام شہری اشیائے ضروریہ کے حصول کی استطاعت سے محروم ہوتا جا رہا ہے، آبادی کا ایک بڑا حصہ بے گھر اور بے روزگار ہے اور بہت سے خاندان اپنی چھت سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں ’’موزوں رہائش‘‘ کا تصور عملی شکل کیسے اختیار کر سکتا ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ شہروں کے عالمی دن کو محض ایک رسمی دن کے طور پر منانے کے بجائے شہروں کی تعمیر و ترقی، ماحولیاتی تحفظ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی مدنظر رکھا جائے کیونکہ شہروں کی حقیقی تجدید اسی وقت ممکن ہے جب وہاں بسنے والے افراد کو امن، تحفظ، روزگار اور باعزت رہائش میسر ہو۔










آپ کا تبصرہ